لطفِ دوزخ بھی، لطفِ جنت بھی
ہائے کیا چیز ہے محبت بھی
عشق سے دور بھاگنے والو!
تھی یہی پہلے اپنی عادت بھی
جینے والا بنا لے جو چاہے
زندگی خواب ہے حقیقت بھی
حالِ دِل کہہ کے بھی کہا نہ گیا
آ گئی اپنے سر یہ تہمت بھی
نازِ اخفائے غم بجا لیکن
تو نے دیکھی ہے اپنی صورت بھی
اُف وہ دورِ نشاطِ عشق خمارؔ
لطف دیتی تھی جب مصیبت بھی
خمارؔ بارہ بنکوی
از:-رقصِ مَے ص ۱۶۵
اِنتِخاب
سفیدپوش

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔