اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

قیصر شمیم کا یومِ پیدائش April 02, 1936 تھوڑی سی …


قیصر شمیم کا یومِ پیدائش
April 02, 1936

تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھی
میری سیرت میں اے قیصر خوبی بھی ہے خامی بھی

کتنے عاشق سنبھل گئے ہیں میرا فسانہ سن سن کر
میرے حق میں جیسی بھی ہو کام کی ہے ناکامی بھی

محفل محفل ذکر ہمارا سوچ سمجھ کے کر واعظ
اپنے مخالف بھی ہیں کتنے اور ہیں کتنے حامی بھی

ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے چاند میں کوئی داغ نہ ہو
جس میں ہوگی کچھ بھی خوبی اس میں ہوگی خامی بھی

میرا مذہب عشق کا مذہب جس میں کوئی تفریق نہیں
میرے حلقے میں آتے ہیں تُلسی بھی اور جامی بھی

یوں تو سکوں کے لمحے قیصر ہوتے ہیں انمول بہت
لیکن اپنے کام آتی ہے دل کی بے آرامی بھی

(قیصر شمیم)