قفس میں مرغِ بسمل یوں تڑپنے کا مزا کیا ہے؟
نکل جانِ حزیں اس جسمِ خاکی میں دھرا کیا ہے
..
نادرؔ کاکوروی کی برسی
October 20, 1912
…
نادر افسوس! قدردانِ سخن
ایک ہندوستان میں نہ رہا
….
پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ،وہ ہم کس سے کہیں
ہاےٗ جو جی پر گزرتی ہے،وہ ہم کس سے کہیں
نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدر انجمن
آپ کو کہنا ہو جو کچھ اہلَ مجلس سے کہیں
،،،،،،،،،،،،،
میں سمجھا تھا مرے حق میں دعاےٗ خیر کرتے ہو
مجھے تم کوستے ہو ہمدمو،اندھیر کرتے ہو
….
ذوقِ گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
……
تو مرے قابل نہیں ہے،میں ترے قابل نہیں
مجھ کو جو سامان ہیں درکار،وہ حاصل نہیں
….
شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے
ابھی تو گفتگوےٗ مصلحت آمیز کرنا ہے
یہ دنیا جاےٗ آسائش نہیں ہے،آزمائش ہے
یہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے
غزل خوانی کو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ
تجھے یاں وعظ کہنا، پندِ سود آمیز کرنا ہے
………..
شمع مزار؛
بیٹھی ہے کس سکوت میں شمعِ مزار تو؟
اے شمع کس شہید کی ہے تکیہ دار تو؟
کیا تیرا دل بھی میری طرح درد مند ہے؟
تجھ کو بھی کنجِ شاِ غریبی پسند ہے؟
اس تیرہ روزگار و پُرآشوب دور میں
دو تیرے درد مند ہیں اقبال اور میں
…..
اس خرابے سے کوئی گزرا ہے نادرؔ نام بھی
جابجا دیوار پر اشعار ہیں لکھے ہوےٗ
…
نوا سنجی کو کیا کچھ بلبلیں اس باغ میں کم تھیں
مجھے تکلیف ناحق دی چمن پیراےٗ عالم نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے چارہ گر! دوا کر، سودا تجھے ہوا ہے
مجھے کو سنبھالتا ہے، اب مجھ میں کیا رہا ہے
دل ہے مگر کہاں اب اس میں ہجومِ ارماں
گھر رہ گیا ہے لیکن اُجڑا ہوا پڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب نہ حسرت،نہ یاس ہے دل میں
کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا
کیا شکایت جو کٹ گےٗ گاہک
ممال ہی جب دکان میں نہ رہا
مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ
جیتے جی جس مکان میں نہ رہا
۔۔۔۔
ہوتے ہیں بیمار سب، پر تم نے سادھی ایسی چُپ
حال بھی کہتے نہیں نادر، تم اپنا صاف صاف
ہاےٗ میں کم بخت حال اپنا کہوں تو کیا کہوں
ایک زخم اندر گلے کے،اور ایک باہر شگاف
…..
قفس میں مرغِ بسمل یوں تڑپنے کا مزا کیا ہے؟
نکل جانِ حزیں اس جسمِ خاکی میں دھرا کیا ہے
…………………………
