اپنی تخلیق سے مایوس نہیں ہوں بیدل
میں نے اربابِ نظر کے لیے چھوڑا ہے بہت
…
ڈاکٹر بیدل حیدری کی پیدائش
October 20, 1920
.
یہ ساری خرابی غلط رزق کی ہے بیدل
اڑنے سے جو قاصر ہیں دعاؤں کے پرندے
…..
ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے
وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے
…..
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
….
رات کو روز ڈوب جاتا ہے
چاند کو تیرنا سکھانا ہے
……
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
…..
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
…..
جتنا ہنگامہ زیادہ ہوگا
آدمی اتنا ہی تنہا ہوگا
…..
میرے اندر کا پانچواں موسم
کس نے دیکھا ہے کس نے جانا ہے
….
کہیں انتہا کی ملامتیں کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
ترے شہر میں مرے بعد اب کوئی سر پھرا نہیں آئے گا
…..
ہو گیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
…..
یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے
کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے
………………………..
