شب کو مے خوب سی پی ، صبح کو توبہ کر لی رِند کے رِن…


شب کو مے خوب سی پی ، صبح کو توبہ کر لی
رِند کے رِند رہے ، ہاتھ سے جنت نہ گئی
…
ضامن علی جلال لکھنوی کی برسی
October 20, 1909
مابعد کلاسکی شاعر،دبستان لکھنو اور رام پور کے امتزاجی اسلوب کے نمائندہ شاعر جلال لکھنوئی کی آج برسی ہے.
۲۰؍اکتوبر۱۹۰۹ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔
….
شب کو مے خوب سی پی ، صبح کو توبہ کر لی
رِند کے رِند رہے ، ہاتھ سے جنت نہ گئی
….
اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دے
پھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے
………
عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی
درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی
……..
جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار
ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل
………
جس نے کچھ احساں کیا اک بوجھ سر پر رکھ دیا
سر سے تنکا کیا اتارا سر پہ چھپر رکھ دیا
………
نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نے
چلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہے
……….
نہ خوف آہ بتوں کو نہ ڈر ہے نالوں کا
بڑا کلیجہ ہے ان دل دکھانے والوں کا
………
پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں
قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا
……..
وعدہ کیوں بار بار کرتے ہو
خود کو بے اعتبار کرتے ہو
…………………………………