توڑ بھی دو احساس کے رشتے چھوڑ بھی دو دکھ اپنانے
رو رو کے جیون کاٹو گے رو رو کے مر جاؤ گے
…
اختر امام رضوی کی وفات
October 20, 2008
………
اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب
روتے رہے لپٹ کے ہر اک اجنبی کے ساتھ
….
جرم ہستی کی سزا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
لوگ جینے کی دعا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
صرصر خوں کے تصور سے لرزتے کیوں ہو
خاک صحرا ہوں اڑا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
کیوں تکلف ہے مرے نام پہ تعزیروں کا
میں برا ہوں تو بھلا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
اب تمہارے لیے خود اپنا تماشائی ہوں
دوستو داد وفا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
میں مسافر ہی سہی رات کی خاموشی کا
تم سحر ہو تو صدا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
جنس بازار کی صورت ہوں جہاں میں اخترؔ
لوگ شیشوں میں سجا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
…
دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے
اور پھر لہر نہ دیکھے کف دریا دیکھے
میں ہر اک حال میں تھا گردش دوراں کا امیں
جس نے دنیا نہیں دیکھی مرا چہرہ دیکھے
اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ
ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھے
رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن
آنکھ اس پھول کی تصویر میں کیا کیا دیکھے
کوئی چوٹی نہیں اب تو مرے قد سے آگے
یہ زمانہ تو ابھی اور بھی اونچا دیکھے
پھر وہی دھند میں لپٹا ہوا پیکر ہوگا
کون بے کار میں اٹھتا ہوا پردہ دیکھے
ایک احساس ندامت سے لرز اٹھتا ہوں
جب رم موج مری وسعت صحرا دیکھے
………………………..
