وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا
درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے
.
صدا انبالوی کا یومِ پیدائش
20 Oct 1951
.
بڑا گھاٹے کا سودا ہے صداؔ یہ سانس لینا بھی
بڑھے ہے عمر جیوں جیوں زندگی کم ہوتی جاتی ہے
….
اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے
اب سیاست نے اسے جوڑ دیا مذہب سے
…..
بجھ گئی شمع کی لو تیرے دوپٹے سے تو کیا
اپنی مسکان سے محفل کو منور کر دے
….
اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے
سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے
…..
دے گیا خوب سزا مجھ کو کوئی کر کے معاف
سر جھکا ایسے کہ تا عمر اٹھایا نہ گیا
……
محبت کے مریضوں کا مداوا ہے ذرا مشکل
اترتا ہے صداؔ ان کا بخار آہستہ آہستہ
….
وقت کے ساتھ صداؔ بدلے تعلق کتنے
تب گلے ملتے تھے اب ہاتھ ملایا نہ گیا
…..
کیوں سدا پہنے وہ تیرا ہی پسندیدہ لباس
کچھ تو موسم کے مطابق بھی سنورنا ہے اسے
…..
رسم دنیا تو کسی طور نبھاتے جاؤ
دل نہیں ملتے بھی تو ہاتھ ملاتے جاؤ
….
چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں
نہیں بدلتا زمانہ تو ہم بدلتے ہیں
کسی کو قدر نہیں ہے ہمارے قدروں کی
چلو کہ آج یہ قدریں سبھی بدلتے ہیں
بُلا رہی ہیں ہمیں تلخیاں حقیقت کی
خیال و خواب کی دنیا سے اب نکلتے ہیں
بُجھی ہے آگ کبھی پیٹ کی اصولوں سے؟
یہ اُن سے پوچھیے جو گردشوں میں پلتے ہیں
اُنہیں نہ تولیے تہذیب کے ترازو میں
گھروں میں جن کے نہ چولہے، نہ دِیپ جلتے ہیں
ذرا سی آس بھی تعبیر کی نہیں جن کو
دلوں میں خواب وہ کیا سوچ کر مچلتے ہیں؟
ہمیں نہ راس زمانے کی محفلیں آئِیں
چلو کہ چھوڑ کے اب اِس جہاں کو چلتے ہیں
مزاج تیرے غموں کا سدا نرالا ہے
کبھی غزل تو کبھی گیت بن کے ڈھلتے ہیں
……
وہ تو خوشبو ہے ہر اِک سمت بِکھرنا ہے اُسے
دِل کو کیوں ضد ہے، کہ آغوش میں بھرنا ہے اُسے
کیوں سدا پہنے وہ، تیرا ہی پسندیدہ لباس
کُچھ تو موسم کے مطابق بھی سنورنا ہے اُسے
اُس کو گُلچِیں کی نِگاہوں سے بچائے مولا
وہ تو غُنچہ ہے، ابھی اور نِکھرنا ہے اُسے
ہر طرف چاہنے والوں کی بِچھی ہیں پلکیں !
دیکھیے کون سے رستے سے گُزرنا ہے اُسے
دِل کو سمجھا لیں ابھی سے، تو مُناسب ہو گا
اِک نہ اِک روز تو، وعدے سے مُکرنا ہے اُسے
ہم نے تصوِیر ہے خوابوں کی مُکمل کر لی !
ایک رنگِ حِنا باقی ہے جو بھرنا ہے اُسے
خواب میں بھی کبھی چُھونا، تو وضو کر کے صدؔا
کبھی میلا، کبھی رُسوا نہیں کرنا ہے اُسے
……..
