قامتِ دلربا پر شباب آ گیا یا سوانیزے پر افتاب…
قامتِ دلربا پر شباب آ گیا
یا سوانیزے پر افتاب آ گیا
جاگی جاگی ان آنکھوں کا عالم نہ پوچھ
سامنے ایک جامِ شراب آ گیا
اک نگاہِ محبت کی تخمیر میں
سب سمٹ کر جہانِ خراب آ گیا
یہ چلے،وہ بڑھے،وہ جواں ہو گئے
چند لمحوں میں یوم الحساب آ گیا
جھوم اٹھی ایک ارماں بھری زندگی
جب ہوائیں چلیں جب سحاب آ گیا
آیئے آئیے اس طرف وہ نشور
شاعرِ یادگارِ شباب آ گیا
(نشور واحدی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)