فیضؔ صاحب آزادی سے قبل لاہور میں مقیم تھے اور میاں افتخارالدّین کے اخباروں کے مدیر تھے۔ وہ برِّصغیر کے بدلتے ہوئے حالات سے واقف تھے۔ نہ صرف مغربی پنجاب بلکہ وہ مشرقی پنجاب بھی گھوم پھر کر آئے تھے۔ پاکستانی مجاہدوں اور ہندوستانی سورماؤں نے جس طور انسانیت کو ذلیل کیا تھا فیضؔ صاحب نے وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اُنہیں دُکھ تھا کہ پاگل ہاتھوں نے ہیر رانجھا کی محبّت بھری سرزمین میں کُشت و خوں اور قتل و غارت کی طرح ڈالی اور دیکھتے ہی دیکھتے پیارے وطن کی پیاری دھرتی خون سے لال ہو گئی۔ اُنہوں نے…
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔