فلسطینی شاعر رفعت العریر کی آخری نظم
اگر میں مر جاؤں
تو تم زندہ رہنا
میری کہانی دنیا کو بتانے کے لئے
میری چیزیں بیچنے کے لئے
میرے کفن کا کپڑا خریدنے کے لئے
اور کچھ ڈور بھی
پھر اسے سفید بنانا اور دم دار بھی
تاکہ غزہ میں کوئی بچہ آسمان پر
اپنے بابا کی اس جنت کو تلاش کرتا ہو اسے دیکھے
جو اچانک بڑھکتے شعلوں کی زد میں آکر جنت سدھار چکا ہے
اپنے پیارے بچّوں کو الوداع کئے بغیر
اپنے گوشت پوست سے بھی بے خبر ہو کر
اپنی ذات کو بھی بنا کچھ کہے
جب وہ بچہ میرے کفن کو دیکھے تو اسے ایک پتنگ نظر آئے
وہ پتنگ جو آپ نے میرا بنایا ہو گا
تو وہ
کچھ دیر کے لئے سوچے کہ ضرور یہ کوئی فرشتہ ہے جو اس سر زمین پر دوبارہ
محبّتیں لوٹانے آیا ہے
اگر میں مارا جاؤں تو اسے امید
بخش بنانا
اسے ایک خوبصورت داستان بنانا
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3825199851043853

Comments
4 responses to “فلسطینی شاعر رفعت العریر کی آخری نظم اگر میں مر جاؤں تو تم زندہ رہنا…”
💔💔
V imotional.nice translation.
کیا دلدوز نظم ہے اور ترجمہ بھی بہت اعلی
اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے