منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

فریبِ جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے؟ نقاب اُٹھاؤ کہ ک…


فریبِ جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے؟
نقاب اُٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

خرابِ شوق رہے، وقفِ انتظار رہے
اب اور کیا ترے وعدوں کا اعتبار رہے؟

میں رازِ عشق کو رسوا کروں؟ معاذاللہ!
یہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے

پھر اہلِ شوق ہیں سرگرمِ اہتمام نظر
وہ رقص برقِ تجلّی پھر ایک بار رہے

سکونِ عشرتِ کونین اُس کا حصّہ ہے
وہ دل جو تیرے تصوّر میں بیقرار رہے

چمن میں رکھ تو رہا ہوں بِنا نشیمن کی
خدا کرے کہ زمانہ بھی سازگار رہے

جنوں کا رُخ بے حریمِ حیات کی جانب
الٰہی!! پردۂ اوہام برقرار رہے

جہاں میں قدرِ سکوں اُس سے پوچھیے اخترؔ
وہ غم نصیب جو اک عمر بے قرار رہے

(علی اخترؔ)