( غیـــر مطبــوعــہ )
درُونِ دل کوئی موسِـــم فسُـــردگی کا تھا
اِسی لئے مِرے چہرے کا رنگ پِھیــکا تھا
اُسی میں گفتگو کرتے رہے ہیں ہم دونوں
وہ ایک وقفہ ء پیہَم جو خامشی کا تھا
اُنہی کے واسطے ہم آج اجنبی ٹھہرے
کہ ہم کو زَعم بہُت جن کی دوستی کا تھا
کتابِ زیست کے اوراق کیا اُلٹتی مَیں
ہر ایک لمحہ مِرے دل کو دھیان اُسی کا تھا
بس ایک بار وہ آیا تھا خواب میں مِلنے
تمام عُمر میں وہ لمحہ ہی خوشی کا تھا
ہم اپنے حوصلے پھر بھی بحال رکھتے ہیں
کہ اب کا سال عجب دل کی تَـشــنگی کا تھا
اُسے خبر ہی نہیں تھی کہ میرے پہلو میں
یہ میرا دل بھی کہاں میرا تھا ‘ اُسی کا تھا
ذرا سی دیر کو وہ دھوپ ســیـنکنے آیا
کہ انتطار مجھے کب سے اِس گھڑی کا تھا
اسی لئے تو یہ تازہ غزل ہوئی’ اَجــرَک !
کہ صبح ہی سے مِرا مُوڈ شاعری کا تھا
( انیــتــا اَجـــرَکؔ )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔