منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعـہ ) خواب کی راہ دیکھتا دریا آنکھو…


( غیــر مطبــوعـہ )

خواب کی راہ دیکھتا دریا
آنکھوں آنکھوں چھلک پڑا دریا

سوچتا ہوں بہَم کروں کیسے
ایک صحرا ہے ‘ دوسرا دریا

آسماں پر ٹھہَـر گیا سورج
چل پڑا ہے رُکا ہوا دریا

اِتنا پایاب ‘ اتنا کم آمیز
کیسا دریا ہے ؟ دھوپ کا دریا

روکتے رہ گئے کنارے مگر
ناو کے ساتھ چل دیا دریا

میں درختوں کی اوٹ سے دیکھا
دھوپ رم جھم میں کھیلتا دریا

( خُــورشــیـدؔ ربّانی )