( غیــر مطبــوعـہ ) خواب کی راہ دیکھتا دریا آنکھو…
( غیــر مطبــوعـہ )
خواب کی راہ دیکھتا دریا
آنکھوں آنکھوں چھلک پڑا دریا
سوچتا ہوں بہَم کروں کیسے
ایک صحرا ہے ‘ دوسرا دریا
آسماں پر ٹھہَـر گیا سورج
چل پڑا ہے رُکا ہوا دریا
اِتنا پایاب ‘ اتنا کم آمیز
کیسا دریا ہے ؟ دھوپ کا دریا
روکتے رہ گئے کنارے مگر
ناو کے ساتھ چل دیا دریا
میں درختوں کی اوٹ سے دیکھا
دھوپ رم جھم میں کھیلتا دریا
( خُــورشــیـدؔ ربّانی )