( غیــر مطبــوعــہ ) یہ تو اب جا کے جنوں میں نے ا…
( غیــر مطبــوعــہ )
یہ تو اب جا کے جنوں میں نے اتارا سَر سے
ورنہ دَر کھولنا آتا ہے مجھے ٹھوکر سے
کس کو معلوم کہ ہم کتنے بھرے بیٹھے ہیں
کس نے دیکھا ہے چٹانوں کا خلا اندر سے
منظرِ شامِ غریباں ہے دَم ِرخصتِ خواب
تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے !
یک بَہ یک ماں کی دعاؤں نے قدم روک لئے
بد دعا باپ کی لے کر ہی چلا تھا گھر سے
بعض اوقات خوشی چُھو کے گذر جاتی ہے
رہ بھی جاتی ہے کبھی لاٹری اک نمبر سے
بے تکلُّف ہے بہُت مجھ سے اداسی میری
مسکراؤں تو پکڑتی ہے مجھے کالر سے
( اظہَــــر فـــراغؔ )