پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) ہجر کو میں نے پَس انداز مَحب…


( غیــر مطبــوعــہ )

ہجر کو میں نے پَس انداز مَحبّت سے کِیا
اک الگ ســلســلہ آغاز مَحبّت سے کِیا

عقل کو بات بتائی تری ہم راہی کی
یوں اِسے تیرا ہی دَم ساز مَحبّت سے کِیا

کچھ نہ کچھ پھول اگانا تھے سَرِ شاخِ جنوں
سو’ بیابان کو ہم راز مَحبّت سے کِیا

عقل کو عقل سے مہمیز کِیا تا بَہ افق
دل مگر مائلِ پرواز مَحبّت سے کِیا

تمکَنت اُس نے جو آغاز کی رفتہ رفتہ
پھر بہُت میں نے بھی اغماض مَحبّت سے کِیا

خود کو تاراج کیا مصطفےٰؔ زیدی کی طرح
مُضطرِب غرّہ ء شـــــہناز مَحبّت سے کِیا

تُو نے سمجھا ہی نہیں رقص کے پس منظر میں
منکشِف ذات کا اَعجاز مَحبّت سے کِیا

اُس میں دَر آئے اندھیرے کو بدلنے کے لیے
تابش و نور کا دَر باز’ مَحبّت سے کِیا

گل اُچھالا کِیا’ منہ پھیر کر’ اُس کی جانب
یعنی اُس کو نظر انداز مَحبّت سے کِیا

( مُحـسِــنؔ شــکیـل )