( غیــر مطبــوعــہ ) کوہ اکُھڑا تو لپک آئے ہیں کن…
( غیــر مطبــوعــہ )
کوہ اکُھڑا تو لپک آئے ہیں کنکر کتنے
ایک پتھرائے پہ بول اٹھے ہیں پتّھر کتنے
کیسے عالم میں مجھے تو نے پکارا ہے کہ میں
آنکھ جھپکوں گا تو جھڑ جائیں گے منظر کتنے
آج اک بوند کو ترسا ہوں تو یاد آیا ہے
میں نے خیرات میں بانٹے تھے سمُندر کتنے
اِن ستاروں کو ملی جوڑ کی شب تو یہ کُھِلے
پھول لگتے ہیں تری زلف میں سوبر کتنے
میں تو وہ پیڑ ہوں پھَلنے کی سزا جس کو ملی
ورنہ کیکر کے مقدّر میں ہیں پتّھر کتنے
شعر تو کہہ دیا،پ ر شعر بچائیں کیسے
نقل کرنے کو تُلے بیٹھے ہیں بندر کتنے
درد کے باٹ سے رکھ کر کبھی تولو تو کھُلے
قافیہ کاروں میں ہوتے ہیں سخُن ور کتنے
آب ِ گوہر نہ ہوا شعر کے کوزے میں بَلند
ہم نے پھینکے ہیں میاں ! مشق کے کنکر کتنے
بات پہنچانا کوئی سہل نہیں ہے’ فـــرہادؔ !
بھیجنا پڑ گئے ہیں اُس کو پیمبر کتنے
( احــــمد فـــرہادؔ )