منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

غیــر مطبــوعــہ ) پَیروں سے لپٹی نیکی کل شب گھر…


غیــر مطبــوعــہ )

پَیروں سے لپٹی نیکی

کل شب گھر سے نکلی تو
مجھ کو معا” احساس ہُوا
جیسے قدموں سے الجھی ہو
پھولوں کی زنجیر
غور سے دیکھا تو لپٹی تھی پَیروں سے
اک ننّھی سی نیکی
میں نے جس کو کمایا تھا
اک میٹھے بول کے سکّے سے
اور سَینت کے رکّھا تھا جس کو
زیور کے خُفیہ ڈبّے میں
” جاؤ ‘ کمرے میں جاؤ۔۔۔ تم اے نیکی! ..
باہَر بہت اندھیرا ہے
اور زمانہ نازُک ہے
” ناراضی میں خوف مِلا کر
مَیں ہذیانہ انداز میں چیخی۔۔۔۔
” ہاں’ ہاں !! جانا ہے مجھ کو
اُور ہر صورت جانا ہے ۔
میرے باہر جانے سے ہی
جان پڑے گی روشنیوں میں
اورخوش بُوؤں کا غلبہ ہوگا
ایک کرن کی ہیبت سے گَر
تاریکی مرسکتی ہے
تو پھر اک ننّھی سی نیکی
بَھری بَھرائی دُنیا میں
جانے کیا کچھ کرسکتی ہے

( شــــازیــہؔ مُــفتـی )