منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) غمِ حیات کو سہنے کا حوصلہ نہ…


( غیــر مطبــوعــہ )

غمِ حیات کو سہنے کا حوصلہ نہ رہا
تمہارے بعد تو خود سے بھی رابطہ نہ رہا

پھر اُس کے بعد اندھیروں کا رقص ہونے لگا
ہواے جبر میں قائم جو اک دیا نہ رہا

بس ایک تجھ کو ہی پانی نہ مل سکا اصغرؑ !
لبِ فرات تو پیاسا کوئی سدا نہ رہا

وہ میری روح کے اندر سموئی اک تصویر
وہ میری سوچ کا منظر جو اب ہرا نہ رہا

گذر گئے جو سمے’ آئینے میں ڈھونڈوں کہاں
شکستہ پائی میں چلنے کا حوصلہ نہ رہا

مِری نگاہ بھٹکتی رہی اندھیروں میں
مِری نظر میں اجالوں کا سلسلہ نہ رہا

میں خود کو ڈھونڈنے نکلی ہوں’ یاد کے صحرا !
مجھے سفر کی صعوبت کا ڈر ذرا نہ رہا

یہ کیسا ظلم ہے’ اب تک زمین سہتی ہے
یہ کیسا عہد ہے’ جس میں کہیں خدا نہ رہا

وجود چَھلنی ہوا ہے تو دل کا دکھ کیسا
یہ کرچیاں سی پڑی ہیں اب آئنہ نہ رہا

ہزار راستے اُس دَر کی سَمت جاتے تھے
وہ ایک در جو کبھی اس کا راستہ نہ رہا

زمین کے دکھ میں کئی پیڑ مر گئے ایسے
سمے کی دھوپ میں جل کر کوئی ہرا نہ رہا

عجیب عالم ِ تنہائی میں مقیّد ہوں
وہ گفتگو ۔۔۔ مِرا خود سے مکالمہ نہ رہا

یہ مسئَلہ ہے مَحبّت کا ۔۔ کیا کہوں ‘ نورینؔ !
مرا خیال بھی اس کو رہا ‘ رہا ‘ نہ رہا

( صــائمـہ نورینؔ بخـــاری )