( غیــر مطبــوعــہ )
روشنی
روشنی کے لئے
رات بھر مَیں کتابیں جلاتا رہا
ایک کے بعد اک دیپ جلتا رہا
سوچ باہَم ہُوئی
حرف جُڑتے رہے
روشنی نظم ہوتی رہی
صبح دَم روشنی جب مکمّل ہوئی
میرے کپڑوں پہ / ہاتھوں پہ / پَیروں پہ / منہہ پر
غرَض میرے سارے بدن پر سیاہی مَلی تھی
اور کمرے میں چاروں طرف
رات کے سُوختہ عِلم کی راکھ ہی راکھ تھی
( ضِیـــاؑ الرّشـــیـد )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔