پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) دشت میں گھـاس کا منظر بھی مج…

( غیــر مطبــوعــہ )

دشت میں گھـاس کا منظر بھی مجھے چاہیے ہے
سَـر چھپانے کے لئے گھر بھی مجھے چاہیے ہے

تھوڑی تدبیر کی سـوغات ہے مطلوب مجھے
اور تھوڑا سـا مقـدّر بھی مجھے چاہیے ہے

تیرنے کے لئے دریا بھی ہے کافی ' لیکن
شـوق کہتا ہے سَـمُندر بھی مجھے چاہیے ہے

صِـرف دیواروں سے ہوتی نہیں گھر کی تکمیل
چھت بھی درکار ہے اُور دَر بھی مجھے چاہیے ہے

گاہے فُٹ پاتھ بہ جا کر بھی مَیں سو جاؤں گا
گاہے اک مخمـلیـں بسـتر بھی مجھے چاہیے ہے

تیری معصوم ادائی بھی سَر آنکھوں پہ مگر
تجھ میں اک شـوخ سـتم گر بھی مجھے چاہیے ہے

چاہیے ہے کبھی ریلا بھی مجھے سردی کا
اور کبھی دھوپ کا لشکر بھی مجھے چاہیے ہے

اِسـتعارے بھی ضروری ہیں سَـخُن میں' لیکن
شِـعر میں صنعتِ پیـکر بھی مجھے چاہیے ہے

گفتگو کس سے کریں بونوں کی بسـتی میں' خمــارؔ !
بات کرنی ہے تو ہم سَــر بھی مجھے چاہیے ہے

— with Suleman Khumar.