( غیــر مطبــوعــہ )
خود سے گذرے نہیں تم اُور نہ خدا تک پہنچے
اک خــلا سے چــلے اُور ایک خـلا تک پہنچے
کس طـــرح تم پہ کُھلے اوّل و آخــر کا فسُـــوں
خامشی سے نہیں گذرے’ نہ صــدا تک پہنچے
درمیاں ہی میں تمہیں کھــا گئی تفصــیلِ عدد
صِـفر سے تم نہ چلے اَور نہ ’’ لا ‘‘ تک پہنچے
تم نے کیا ڈھونڈا ، تمھیں کیا مِلا ، یہ تم ۔۔۔ تم جانو
ہم بقـا ڈھونڈ رہے تھے ‘ سو فنـا تک پہنچے
درد کی چھـــوڑو کہ وہ وَہـم بھی ہو سکتا ہے
یہ بتاؤ ۔۔ مجھے تم ‘ کیسے دَوا تک پہنچے
( مِیـر احــــمد نویـدؔ )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔