پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) ایک مَحبّت نادانی سے’ اپنے …


( غیــر مطبــوعــہ )

ایک مَحبّت نادانی سے’ اپنے ہاتھــوں کھو بیٹھے ہیں
جتنا کافی ہو سکتا تھا’ اُس سے بڑھ کر رو بیٹھے ہیں

کون کہے گا دنیا میں اب تیرے جیسا اَور نہیں ہے
ہم بھی اپنے لہجے کی ۔۔ وہ تلخی ساری دھو بیٹھے ہیں

ایک ہی بھٹّی میں پگھلے جو’ دونوں کی تاثیر جدا ہے
خواب جلے ہیں چُولہے میں اُور آنسو کُندن ہو بیٹھے ہیں

اپنے ہاتھ تھی دل کی دنیا . ہنستی گُڑیا لگتی تھی وہ
اُس سے مِل کر پلٹے ہیں تو ۔۔ گُڑیا یہ بھی کھو بیٹھے ہیں

کوئی درد رگوں میں دل کی’ جب بہتا ہے تو لگتا ہے
تیری یاد کو دفن تھا کرنا’ بیج اِسی کا بو بیٹھے ہیں

( ســـعـدیـہؔ بشـــیـر )