( غیــر مطبــوعــہ ) اپنے یار کی یاری پر ناز کیا …
( غیــر مطبــوعــہ )
اپنے یار کی یاری پر
ناز کیا سَــــرداری پر
آنکھوں کو مامُـــور کِیا
شب کی پہرہ داری پر
سانس اُکھڑے لگتی ہے
تھوڑی سی دُشواری پر
پڑے ہوئے ہو بستر میں
شـرم کرو بے کاری پر
نظریں حیرت سے ڈالِیں
مَیـں نے بادِ بہـــاری پر
کٹ جاتے ہیں لمحوں میں
لگے ہوئے سَــرکاری، پَر
لعنت بھیتا ہوں مَیں سـعیــدؔ !
جُھوٹ کی اِس بھرماری پر
( مبشّـــر سـعـیــدؔ )