( غیـر مطبـوعـہ ) بِن محافظ ۔ ۔ کُھلے ریل کے ای…
( غیـر مطبـوعـہ )
بِن محافظ ۔ ۔ کُھلے
ریل کے ایک پھاٹک سی ہے زندگی
جس کے دونوں طرف
خواب میں جاگتی بھیڑ سی ہے رواں
جس کو یہ سوچتے کی بھی فرصت نہیں
کس کو جانا ہے کب ' کس طرف اور کہاں
اور لگی تھی یہاں
جس محافظ نما شخص کی نوکری
وہ بھی چُھٹّی پہ ہے
پاس آتی ہوئی ریل کی سِیٹیاں
کوئی سنتا نہیں
پٹڑیوں سے گزرتی ہوئی خلق کو
وقت پر روک لے ' کوئی ایسا نہیں
جلتا بُجھتا تو ہے
ایک سگنل کہیں
کوئی اس کی طرف دیکھتا ہی نہیں
دیکھ ہی لے اگر ' سوچتا ہی نہیں
ریل کے ہر دفعہ آنے جانے پہ یہ
گِرتا اٹھتا ہے کیوں
اس کا مطلب ہی کیا ' یہ سمجھتا نہیں
ریل کو سامنے دیکھتا ہے مگر
پھر بھی رکتا نہیں
کیسا سِگنل ہے یہ
جس کے پے ہم اشارے بدلنے سے بھی
کچھ بدلتا نہیں
بے محافظ ' کُھلے
ریل کے ایک پھاٹک سی ہے زندگی
جس کے دونوں طرف
بھیڑ تو ہے مگر
کوئی بڑھ کر اسے بند کرتا نہیں
ایسے لگتا ہے جیسے زمیں آسماں
ّاور ہر چیز ' جو
ان کے ہے درمیاں
ایک ہی خواب میں سب ہیں کھوئے ہوئے
آدھے جاگے ہوئے ' آدھے سوئے ہوئے
ایسے لگتا ہے ' سب
اک فریب ِ نظر کی ہے جادو گری
کچھ نہیں ہے اُدھر ' کچھ نہیں ہے
یہاں کوئی سنتا نہیں
سر پہ آتی ہوئی ریل کی سیٹیاں
( امجــد اسلام امجــد ؔ )
— with Amjad Islam Amjad.