( غیر مطبوعہ ) مجھ پہ کھلتا کہاں یہ رازِ چمن یہ…
( غیر مطبوعہ )
مجھ پہ کھلتا کہاں یہ رازِ چمن
یہ جو الجھا ہے خار سے دامن
رات تھا نیند کا سفر کوئی صبح
اٹھتے ہی آنکھ میں تھی تھکن
تیرا لہجہ بھی سرد ہے کتنا
بڑھتی ہی جا رہی ہے میری جلن
ایسے دل میں چھپا ہوا ہے تُو
راکھ میں جیسے رہ گئی ہو اگن
اس کے نیناںؔ میں ہے مِرا چہرہ
تیز گامی دِکھا مِری دھڑکن
( فــرزانہ نیــناں ؔ )