( غیر مطبوعہ ) مجھے معلوم ہے’ میری پریشانی سمَجھت…


( غیر مطبوعہ )

مجھے معلوم ہے’ میری پریشانی سمَجھتا ہے
سلگتے دشت کی افسُردگی پانی سمَجھتا ہے

کہاں کُھلتی ہیں رمزیں عشق کی ہر بے عقیدہ پر
جو خود حیران ہو’ آنکھوں کی حیرانی سمَجھتا ہے

میں تیرے قرب کی مہکار کو ایسا سمَجھتا ہوں
کہ جیسے دھوپ کی تاثیر زندانی سمَجھتا ہے

وہ کچھ کچھ جانتا ہے عشق کی مُعجِز بیانی کو
جو سیلِ اشک کو آنکھوں کی نگرانی سمَجھتا ہے

عجب مَیں ہوں کہ ڈر جاتا ہوں ہر چھوٹی سی آہٹ پر
عجب دل ہے کہ ہر مشکل کو آسانی سمَجھتا ہے

ہماری آبلہ پائی ہمارے کچھ تو کام آئی
خدا کا شُکر ہے’ وہ اب غزل خوانی سمَجھتا ہے

( عِرفانؔ صادِق )