( غیر مطبوعہ ) ظلم کی انتہا تک پہنچتے ہوئے شام ہو…

( غیر مطبوعہ )

ظلم کی انتہا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی
قافلہ کربلا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

میں تو شعلہ دکھانے میں مصروف تھا کیا خبر تھی مجھے
اس دیے کو ہوا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

کیا ملے گا مجھے دن ڈھلے منزلِ رفتگاں کا سراغ
کیا ترے نقشِ پا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

دن کا آغاز کیوں سے ہوا ہے تو پھر طے شدہ امر ہے
کیوں سے دنیا کو کیا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

قصّہ گوئی میں شب کٹ گئی صبح ہونے کو ہے اور اُنہیں
معنی و مدعا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

سامعہ ، باصرہ اور شامہ سے ہو کر نکلتی ہے صوت
خامشی کو صدا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

گویا مشکل کی گرہیں کُھلیں گی مگر دن نکل جائے گا
یعنی مُشکل کُشا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

شام ہو جائے گی سرّ ِ ارض و سما تک پہنچتے ہوئے
سرّ ِ ارض و سما تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

دن گزر جائے گا آزرؔ ! اِن گھاٹیوں کی تہوں میں کہیں
اور تحت الثّریٰ تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی

( دلاورعلی آزرؔ )