( غیر مطبوعہ )
دل کو بھرتے ہیں زیادہ’ کبھی کم بھرتے ہیں
وہ خلا پھر بھی ہے قائم کہ جو سم بھرتے ہیں
میں بھی مرتا ہوں اگر اُس پہ تو حیرت کیسی
سب اُسی حُسنِ دل افروز کا دَم بھرتے ہیں
اُن کے صحنوں سے ہی اُٹھتا ہے دھواں ہستی کا
صبح دم اُٹھ کے جو سورج کی چِلم بھرتے ہیں
… More

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔