( غیر مطبوعہ ) تو بھی لگتا ہے اسی بستی کا سانپ …
( غیر مطبوعہ )
تو بھی لگتا ہے اسی بستی کا
سانپ بنتا ہے جہاں رسّـی کا
میرا دنیا سے ترے بعد' اے دوست!
اک تعـــلّق ہے زبردستی کا
تیری فرقت کی طلب گار تھی شب
ہاتھ میں کاسہ لئے چاندی کا
دھڑکنوں میں وہی بے ترتیبی
طاری عالم ہے وہی مستی کا
خال و خد اور کسی کے دل میں
ہاتھ میں ہاتھ کسی لڑکی کا
عشق کے لمس سے دیوانہ ہوا
حسن خود حسن کی نو خیزی کا
جب بھی ہوتا ہوں مخاطب تجھ سے
دھیان رہتا ہے ہم آغوشی کا
حسن کی پردہ نشینی کی خیر
شوق کا رنگ پڑا ہے پھیکا
کیسے بھائے گا مرا قرب اسے
مجھ پہ سایہ ہے سیہ بختی کا
بوند بارش کی جو رخسار چُھوے
مہَـک اٹھتا ہے بدن مٹّی کا
دہر ہے آگ کا دریا جس میں
وقت اک پُل ہے (مگر لکڑی کا)
میرا لب کھولنا باعث ٹھیرا
شہر میں گونگوں کی دل چسپی کا
( ذی شــانؔ الٰہـی )
— with Zeeshan Ilahi.