( غیر مطبوعہ ) بڑے ہیں دن بھی 'راتیں بھی بڑی…

( غیر مطبوعہ )

بڑے ہیں دن بھی 'راتیں بھی بڑی ہیں
ابھی کرنے کو باتیں بھی بڑی ہیں

سبُک رفتار ہِرنی بھی بہُت ہے
مگر رستے میں گھاتیں بھی بڑی ہیں

بنے پھرتے ہیں وہ نامی گرامی
کہ کم ذاتوں کی ذاتیں بھی بڑی ہیں

یہی بچپن سے سُنتا ا رہا ہوں
بڑے لوگوں کی باتیں بھی بڑی ہیں

اِسی پتّھر سے ہم زخمی ہوئے تھے
اِسی پتّھر میں دھاتیں بھی بڑی ہیں

بُرا مَیں امتیاز ؔ !! اِتنا نہیں ہوں
مِرے بارے میں باتیں بھی بڑی ہیں

( امتیاز الحق امتیاز ؔ )

— with Zia Shahid.