منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

غزل غزل کے ساز اٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات نوائے میرؔ…

غزل
غزل کے ساز اٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات
نوائے میرؔ سناؤ بڑی اُداس ہے رات

نوائے درد میں اک زندگی تو ہوتی ہے
نوائے درد سناؤ بڑی اُداس ہے رات

اداسیوں کے جو ہم راز و ہم نفس تھے کبھی
انھیں نہ دل سے بھلاؤ بڑی اُداس ہے رات

جو ہو سکے تو ادھر کی بھی راہ بھول پڑو
صنم کدے کی ہواؤ بڑی اُداس ہے رات

کہیں نہ تم سے تو پھر اورجا کے کس سے کہیں
سیاہ زلف کے سایو بڑی اُداس ہے رات

پڑا ہے سایۂ غم جب حیاتِ انساں پر
وہ داستاں بھی سناؤ بڑی اُداس ہے رات

ابھی تو ذکر سحر دوستو ہے دور کی بات
ابھی تو دیکھتے جاؤ بڑی اُداس ہے رات

سنا ہے پہلے بھی ایسے میں بجھ گئے ہیں چراغ
دلوں کی خیر مناؤ بڑی اُداس ہے رات

… More