غالب کی طرح اکبر الہ آبادی کو بھی آموں سے عشق تھا ۔ اپنے بے تکلف دوست منشی نثار حسین کو لکھتے ہیں ۔
’’آم نامہ‘‘
اکبر الہ آبادی
نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے
ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے
معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے
ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے
……
مرزا غالب کی آموں تعریف
غالب من و فدا کہ سر انجام برشگال
غیر از شراب و انبہ و برفاب قند نیست
غالب میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بس برسات صرف ان تین باتوں کے لۓ آتی ہے اور اس موسم کا پیدا کرنے کا کوئ مقصد ہی نہیں ہےشراب چڑھاۓ آم کھاۓ اور برف کا شربت پیجۓ۔
بقول غالب آم میں صرف دو باتیں ہونی چاہئیں
میٹھا ہو اور بہت ہو ۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔