عورت کے عالمی دن پر .. نظم عورت زادی سائیں مجھے دع…


عورت کے عالمی دن پر .. نظم
عورت زادی
سائیں مجھے دعا دو نا !
دیکھو میرے آنچل میں یہ
کتنے چھید ہوۓ جاتے ہیں
ہونٹوں پر یہ پیاس کا صحرا
آنکھوں میں اشکوں کی ندیاں
پَیروں میں
انگاروں کی پازیب بندھی ہے
سانس کی دھار کٹاری جیسی
بستی سانپ پٹاری جیسی
دِل کی حویلی پھر سے ویراں
ہَستی ساری لِیراں لِیراں
سائیں ! تیری عورت زادی
سارے مان لُٹا بیٹھی ہے
تیرے دَر پہ آ بیٹھی ہے
سایٔیں مجھے دعا دونا !
کیسے جیٔوں مَیں
دھیان سے اوجھل
عشق کے بھید ہوۓ جاتے ہیں
دیکھو میرا آنچل دیکھو !
کتنے چھید ہوۓ جاتے ہیں
سائیں مجھے دعا دو نا !
سائیں !
میرے
سچے سائیں !
نوشی گیلانی



Comments

جواب دیں