عندلؔیب شادانی
کوئی اَدا شناسِ محبّت ہَمَیں بتائے
جو ہم کو بُھول جائے ، وہ کیوں ہم کو یاد آئے
اِک دِلنشیں نِگاہ میں، اللہ یہ خلش
نشتر کی نوک جیسے کلیجے میں ٹُوٹ جائے
کہتے تھے، تُم سے چُھوٹ کر کیونکر جئیں گے ہم
جیتے ہیں تُم سے چُھوٹ کے، تقدِیر جو د،کھائے
کُچھ ہم سے بے خودی میں ہُوئیں بے حِجابیاں
چشمک زَنی سِتاروں نے کی، پُھول مُسکرائے
مایُوسِیوں میں دِل کا وہ عالَم دَمِ وِداع
بُجھتے ہُوئے چراغ کی لَو جیسے تھر تھرائے
تُم تو ہم ہی کو کہتے تھے، یہ تُم کو کیا ہُوا
دیکھو کنول کے پُھولوں سے شبنم چَھلک نہ جائے
اک ناتمام خواب مُکمّل نہ ہو سَکا
آنے کو، زندگی میں نہت اِنقلاب آئے
عندلؔیب شادانی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔