عمیر نجمی کا یومِ پیدائش September 02, 1986 اب یہ…


عمیر نجمی کا یومِ پیدائش
September 02, 1986

اب یہ زردی بھی بھگتنا تو پڑے گی کچھ دن
میں نہ کہتا تھا ہرے رنگ میں ملبوس نہ ہو
…..
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
……
تم نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا مَیں
کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہیں سَر نہ لگے
….
اک اور عشق آ گیا تھا دورانِ ہجر، ٹالا
ممانعت تو نہیں تھی، مجھ میں سکت نہیں تھی
….
ہمارے دین میں جائز ہے تین روز کا سوگ
بچھڑ کے اُس سے ابھی رات دوسری ہی تو ہے
…..
میں قطع کرتا نہیں سرسری تعلق بھی
تمہارے ساتھ تو اچھا بھلا تعلق ہے
….
تو مجھ کو رونے دے یار شانے پہ ہاتھ مت رکھ
میں گیلے کاغذ کی طرح چهونے سے پهٹ رہا ہوں
….
خشک دیوار میں سیلن کا سبب کیا ہو گا؟
اک عدد زنگ لگی کیل تھی ‘ تصویر کے بعد
…..
کسی کی نیند ہمیں دستیاب ہو اک شب
ہمارے خواب کسی اور کو دکھا دیئے جائیں
….
کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے
پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ
……………….