منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

علامہ شبلی نعمانی کی وفات November 18, 1914 18 نو…


علامہ شبلی نعمانی کی وفات
November 18, 1914

18 نومبر 1914ء کو اردو زبان کو علمی سرمائے سے مالا مال کرنے والے نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1982ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔
۔
متفرق اشعار

1۔ دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
جادہ راہِ بیاباں رہ گیا

2۔ قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں
تیغ کا گردن یہ احساں رہ گیا

3۔ کیا قیامت ہے کہ کوۓ یار سے
ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

4۔ بزم میں ہر سادہ رو تیرے حضور
صورت آئینہ حیراں رہ گیا

5۔ یاد رکھنا دوستو اس بزم میں
آ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا

6۔ ضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے
میں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا