علامہ رشیؔد ترابی ہَوا ہَوَس کی چَلی، نفس مُشتعل …
علامہ رشیؔد ترابی
ہَوا ہَوَس کی چَلی، نفس مُشتعل نہ ہُوا
جسے یہ بات میسّر ہُوئی، خجل نہ ہُوا
گُزر چَلامن و تُو سے فضائے ہُو کا حرِیف
بشر وہی، جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہُوا
یہ اور بات، کہ ظالم کی نیند اُڑ جائے
ارادتاً مِرا نالہ کبھی مُخل نہ ہُوا
شگوُنِ فکر، سکُونِ نَظر، سکُونِ حَیات
خَمِیرِ زیست ، اِن اجزا پہ مُشتمل نہ ہُوا
جو زخم دِل پہ لگے،مِٹ گئے، مگر غَمِ دوست!
مِری حَیات ہے یہ زخم، مُندمل نہ ہُوا
بہار میں بھی، نہ تھا ناز دِل کی قوّت پر
خِزاں کے دَور میں بھی قلب مضمحل نہ ہُوا
اثر پذِیر، وہ قصّہ ہےجس میں درد بھی ہو
بغیر درد کوئی کیف منتقل نہ ہُوا
ضِدیں تمام زمانے کی اِک جگہ کردِیں
مذاق ہو گیا ہستی کا، میرا دِل نہ ہُوا
خطا یہ تھی ، کہ جھنجھوڑا ہے خُود پَرستوں کو
رشِیدؔ، ایسی خطاؤں پہ منفعل نہ ہُوا
علامہ رشِیدؔ تُرابی