عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں
ذکیہ غزل
عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں
کانٹے اور ببول صنوبر لگتے ہیں
بھور بھئے آکاش سے سورج جاگے تو
چاند ستارے کتنے بے گھر لگتے ہیں
چہرے کو چہرے سے ڈھانپے پھرتے لوگ
بولتے ہیں تو لہجے بنجر لگتے ہیں
خوشیوں کے بازار میں غم بھی بکتے ہیں
اور غم کے بازار تو اکثر لگتے ہیں
خون کے رشتے مول بکے بازاروں میں
ماں جائے بھی اب تو پتھر لگتے ہیں
……
نام ذکیہ وسیم اور تخلص غزل ہے۔۲۰؍اکتوبر۱۹۶۳ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ایم اے (نفسیات) میں کیا۔ اپنے کالج کی صدر اور ڈپارٹمنٹ کی کونسلر رہیں۔ تین گولڈ میڈل، ساٹھ سے زیادہ ٹرافیاں، بے شمار سر ٹیفکیٹ، چاندی اور کانسے کے تمغے اپنی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حاصل کیے۔ان کا ترنم بہت اچھا ہے۔ ریڈیو پاکستان کی ورلڈ سروس میں پانچ سال تک اناؤنسر کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ ا ن کی شاعری کا مجموعہ’’بادل، گیت، ہوا اور میں‘‘ شائع ہوگیا ہے۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔