اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ضیا جالندھری کا یومِ پیدائش 02؍فروری 1923 … برا…


ضیا جالندھری کا یومِ پیدائش
02؍فروری 1923
…
برا نہ مان ضیاؔ اس کی صاف گوئی کا
جو درد مند بھی ہے اور بے ادب بھی نہیں
———-
عشق میں بھی کوئی انجام ہوا کرتا ہے
عشق میں یاد ہے آغاز ہی آغاز مجھے
———-
ہمت ہے تو بلند کر آواز کا علم
چپ بیٹھنے سے حل نہیں ہونے کا مسئلہ
———-
ضیاؔ وہ زندگی کیا زندگی ہے
جسے خود موت بھی ٹھکرا گئی ہو
———-
ہاں مجھ پہ ستم بھی ہیں بہت وقت کے لیکن
کچھ وقت کی ہیں مجھ پہ عنایات وہ تم ہو
———-
اتنا سوچا تجھے کہ دنیا کو
ہم نے تیری نگاہ سے دیکھا
———-
دیکھ پھولوں سے لدے دھوپ نہائے ہوئے پیڑ
ہنس کے کہتے ہیں گزاری ہے خزاں بھی ہم نے
———-
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے
———-
تو کوئی سوکھا ہوا پتہ نہیں ہے کہ جسے
جس طرف موج ہوا چاہے اڑا کر لے جائے
———-
تیرے دکھ کو پا کر ہم تو اپنا دکھ بھی بھول گئے
کس کو خبر تھی تیری خموشی تہہ در تہہ اک طوفاں ہے
———-
کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا
تجھے کس کس نگاہ سے دیکھا
———-
تیرا غم بھی نہ ہو تو کیا جینا
کچھ تسلی ہے درد ہی سے مجھے
———-
میں آفتاب کو کیسے دکھاؤں تاریکی
تجھے میں کیسے بتاؤں کہ کیا ہے تنہائی
———-
اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں
میں نے رفتہ سے یہ جانا ہے کہ آئندہ نہیں
———-
اب جو روٹھے تو جاں پہ بنتی ہے
خوش ہوا مجھ سے بے سبب کوئی
———-
یہ آنسو یہ پشیمانی کا اظہار
مجھے اک بار پھر بہکا گئی ہو
———-
وہ خواب کیا تھا کہ جس کی حیات ہے تعبیر
وہ جرم کیا تھا کہ جس کی سزا ہے تنہائی
———-
ان کہی بات کے سو روپ کہی بات کا ایک
کبھی سن وہ بھی جو منت کش گویائی نہیں
———-
مشکلیں دل میں نئی شمعیں جلا دیتی ہیں
غم سے بجھ جانا تو درویشوں کا دستور نہیں
———-
اظہار نارسا سہی وہ صورت جمال
آئینۂ خیال میں بھی ہو بہو نہ تھی
———-
وقت بے مہر ہے اس فرصت کمیاب میں تم
میری آنکھوں میں رہو خواب مجسم کی طرح
———-
اب اس کا چارہ ہی کیا کہ اپنی طلب ہی لا انتہا تھی ورنہ
وہ آنکھ جب بھی اٹھی ہے دامان درد پھولوں سے بھر گئی ہے
———-
انہیں اپنے گداز دل سے اندازہ تھا اوروں کا
جب انسانوں کے دل دیکھے تو انسانوں کے دل ٹوٹے
———-
ابر آوارہ سے مجھ کو ہے وفا کی امید
برق بے تاب سے شکوہ ہے کہ پائندہ نہیں
———-
وہ شاخ بنے سنورے وہ شاخ پھلے پھولے
جس شاخ پہ دھوپ آئے جس شاخ کو نم پہنچے
…
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے
بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شام
شاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے
ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر
راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے
وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سراب
دشت معلوم کی ہم آخری حد چھو آئے
مصلحت کوشئ احباب سے دم گھٹتا ہے
کسی جانب سے کوئی نعرۂ یاہو آئے
سینے ویران ہوئے انجمن آباد رہی
کتنے گل چہرہ گئے کتنے پری رو آئے
آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیاؔ
جشن غم جاری ہوا آنکھوں میں آنسو آئے
…………………………………