صُبح سے شام تلک اپنا لَہُو بیچتا ہُوں سُرخیاں ڈھُو…


صُبح سے شام تلک اپنا لَہُو بیچتا ہُوں
سُرخیاں ڈھُونڈ رہا ہُوں تیرے گالوں کے لیے۔۔۔!

شہزادؔ احمد


Comments

2 responses to “صُبح سے شام تلک اپنا لَہُو بیچتا ہُوں سُرخیاں ڈھُو…”

  1. Ohh.
    تھک چکا ہے یہ دھڑکنے کی مشقت سے ذکی
    اب دلِ مزدور کو بھی ایک چھٹی چاہیے ۔ ۔ ۔

جواب دیں