شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے افتخار عارف شہر…
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
افتخار عارف
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہے
نئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے
وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بس
محور گردش سفاک سے خوف آتا ہے
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے
آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لو دیتی ہے
خاک کو خاک کی پوشاک سے خوف آتا ہے
قامت جاں کو خوش آیا تھا کبھی خلعت عشق
اب اسی جامۂ صد چاک سے خوف آتا ہے
کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے
ان دنوں عالم افلاک سے خوف آتا ہے
رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان
امت سید لولاک سے خوف آتا ہے
……
خورشید انور
رحمت العالمین تیرے عشاق سے ڈر لگتا هے
ضعیف العتقاد ماں باپ، سے ڈر لگتا هے
ناموس کے سیاق و سباق سے ڈر لگتا هے
انسانیت کی تذلیل و. مذاق سے ڈر لگتا هے
مجهے خلد، حور ، اور ، کوثر نہیں چاهیے
الہام ، و ابہام ، کے.اسباق سے ڈر لگتا هے
نہیں خوف ، یہود و حنود، کافر کے شر سے
تنگ نظر ملا، زاہد بے باک سے ڈر لگتا هے
حافظہ .هی چهین لے، اب تو یا رب میرا
تفسیر، تکبیر. اور. ادراک سے ڈر لگتا هے
هوک هو، سسک هو،گهاو هو،کوئی بات نہیں
انور آزار سے، دل صد چاک سے ڈر لگتا هے