اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے کس کی ماں نے کتن…


شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
..
اسلم کولسری کا یومِ پیدائش
August 01, 1946

اوکاڑہ کے پاس واقع گاؤں کولسر میں پلنے بڑھنے والے اسلم کولسری کی شاعری میں استعاروں اور تخیّل کی انفرادیت نمایاں ہے اور باوجود جدتِ اسلوب کے ہر شعر قاری یا سامع کے دل میں اتر جاتا ہے اسلم کولسری کو(چاہتے ہوئے بھی) فیض فراز اور قاسمی کے قبیلے کا شاعر نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔
اسلم کولسری کی شاعری انسانی زندگی کے تجربات صبر ، دُعاء ، محنت سے عبارت ہے مگر ان کے باوجود وہ محبت کو فراموش نہیں کرتا۔ اسلم کولسری نے ایک غزَل اپنے بیٹے کی رحلت کے موقع پر بھی کہی تھی اس غزَل کے اشعار لکھتے ہوئے وہ کس کیفیت سے گزرا اس کا اندازہ ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے
سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
اَیسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
تُو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہاء
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
اسلم نے ہائیکو ، نظم غزَل ۔۔سب میں ہی خوب طبع آزمائی کی ہے۔اسلم کولسری اردو سائنس بورڈ میں بھی رہے ،۔۔۔۔۔۔ان کے انکسار اور عجز کے باعث ہر عمر کا شخص ان کا بےحَد احترام کرتا تھا۔۔۔اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔۔۔۔ یکم اگست ان کا یومِ پیدائش ہے
(حکیم خلیق الرحمٰن)