شکیل جمالی کا یومِ پیدائش August 01, 1958 لوگ کہت…
شکیل جمالی کا یومِ پیدائش
August 01, 1958
لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں
….
ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ
وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے
…..
میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ
اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے
…
عمر کا ایک اور سال گیا
وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
…..
سب سے پہلے دل کے خالی پن کو بھرنا
پیسہ ساری عمر کمایا جا سکتا ہے
……
تمہارے بعد بڑا فرق آ گیا ہم میں
تمہارے بعد کسی پہ خفا نہیں ہوئے ہم
…..
اگر ہمارے ہی دل میں ٹھکانا چاہئے تھا
تو پھر تجھے ذرا پہلے بتانا چاہئے تھا
…..
کچھ لوگ ہیں جو جھیل رہے ہیں مصیبتیں
کچھ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے بدل گئے
…..
کوئی اسکول کی گھنٹی بجا دے
یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے
…..
جھوٹ میں شک کی کم گنجائش ہو سکتی ہے
سچ کو جب چاہو جھٹلایا جا سکتا ہے
….
شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ
سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے
…..
اپنے خون سے اتنی تو امیدیں ہیں
اپنے بچے بھیڑ سے آگے نکلیں گے
…..
غم کے پیچھے مارے مارے پھرنا کیا
یہ دولت تو گھر بیٹھے آ جاتی ہے
…..
ہر کونے سے تیری خوشبو آئے گی
ہر صندوق میں تیرے کپڑے نکلیں گے
…..
زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے
لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں
….
مسئلہ ختم ہوا چاہتا ہے
دل بس اب زخم نیا چاہتا ہے
….
کن زمینوں پہ اتارو گے امداد کا قہر
کون سا شہر اجاڑو گے بسانے کے لیے
…..
ہو گئی ہے مری اجڑی ہوئی دنیا آباد
میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ بتانے کے لیے
…..
رشتوں کی دلدل سے کیسے نکلیں گے
ہر سازش کے پیچھے اپنے نکلیں گے
….
موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
…..
اک بیمار وصیت کرنے والا ہے
رشتے ناطے جیبھ نکالے بیٹھے ہیں