شوخئ نرگسِ مخمور جو یاد آتی ہے زندگی ہوش میں …


شوخئ نرگسِ مخمور جو یاد آتی ہے
زندگی ہوش میں آتی ہے، بہک جاتی ہے

محفلِ دہر میں دیکھا ہے جو تنہا مجھ کو
زندگی آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہے

ہم کو خورشیدِ ترقی سے گلہ ہے اے دوست
تھی جہاں چھاؤں وہاں دھوپ نظر آتی ہے

میری تسکیں کو نسیمِ سحری آخرِ شب
تیری خوشبو تیری خلوت سے چُرا لاتی ہے

تنگ ہے گردشِ دوراں تیرے دیوانوں سے
کہیں ملتی ہے تو کترا کے نکل جاتی ہے

شمع ہمرازِ ستم ہائے جدائی ہے روش
کیا قیامت ہے کہ ہر رات گزر جاتی ہے

(روش صدیقی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی