شفیق خلشؔ
رغبت ِ دِل کوزمانے سے چُھپایا تھا بہت
لیکن اُس ضبطِ محبّت نے رُلایا تھا بہت
دسترس نے بھی تو مٹّی میں مِلایا تھا بہت
جب تماشا دِلی خواہش نے بنایا تھا بہت
بے بسی نے بھی شب و روز رُلایا تھا بہت
خواہشِ چاند میں جی اپنا جلایا تھا بہت
کچھ تو کم مایگی رکھّے رہی آزردہ ہمیں!
کچھ ہمیں اُس کی اداؤں نے ستایا تھابہت
ہجر و فُرقت سے رہا مُجھ پہ زمانہ وہ کہاں!
در بَدر سے، تِری قُربت نے بچایا تھا بہت
رازداری بھی مُصیبت سے کہاں کم تھی خلش ؔ
لاحق اندیشوں نے کب دِل نہ ہِلایا تھا بہت
یاد کرتا ہُوں وہ ایّامِ لطافت ،کہ خلشؔ!
جب تصوّر سےبھی اِس دل کو لُبھایا تھا بہت
شفیق خلشؔ

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔