شبِ وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا میں تیرے سایۂ…
شبِ وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا
میں تیرے سایۂ لطف و عطا میں بیٹھا تھا
تمام عمر اُسے ڈھونڈنے میں صَرف ہوئی
جو چھپ کے میرے بدن کی گپھا میں بیٹھا تھا
نئی رُتوں کی ہوا لے اُڑی لباس اس کا
وہ کل تلک تو حریمِ حیا میں بیٹھا تھا
درونِ قافلہ آثار تھے بغاوت کے
عجب سا خوف دلِ دلِ رہنما میں بیٹھا تھا
… More