منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

شبِ فرقت کی مری آج سحر آئی ہے مدتوں بعد تری را…


شبِ فرقت کی مری آج سحر آئی ہے
مدتوں بعد تری راہ گزر آئی ہے

دیکھ تو لیجے مرے خونِ تمنا کی بہار
جس کی سرخی میری آنکھوں میں اُتَر آئی ہے

تو نے تو ترکِ محبت کی قسم کھائی تھی
کیوں تیری آنکھ مجھے دیکھ کے بھر آئی ہے

ان کے پیراہنِ رنگیں کی مہک ہے اس میں
آج کیا بادِ صبا ہو کے اُدھر آئی ہے

اس میں کچھ ان کی جفائیں بھی تو شامل ہیں شمیم
بے وفائی کی جو تہمت مرے سر آئی ہے

(شمیم جے پوری)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی