شامِ غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے میں نے دانس…
شامِ غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے
میں نے دانستہ چراغوں کو بجھا رکھا ہے
اور کیا دوں میں گلستاں سے محبت کا ثبوت
میں نے کانٹوں کو بھی پلکوں پہ سجا رکھا ہے
جانے کیوں برق کو اس سمت توجہ ہی نہیں
میں نے ہر طرح نشیمن کو سجا رکھا ہے
زندگی سانسوں کا تپتا ہوا صحرا ہی سہی
میں نے اس ریت پہ اک قصر بنا رکھا ہے
… More