سیکنڈ ائیر میں جب ہم ’مدافعاتی نظام‘ پر بحث کر رہے تھے، اور ہمیں علم ہوا کہ ہمیں بھی نفس کی اس قوت کا کچھ حصہ عطا ہوا ہے۔۔ہمیں سمجھ آیا کہ یہ عذر ، تغیّر اور انکار ( وہ تمام چھوٹی چھوٹی چالیں جو ہم چلتے ہیں)۔۔ اگر ان کی بجائے ہم دنیا کا سامنا یونہی کرتے جیسی وہ ہے۔۔ بغیر کسی کھرے اور مضبوط مدافعاتی نظام کے۔۔۔ تو ہمارے دل پھٹ جاتے۔
ہم نے یونیورسٹی میں یہ سیکھا کہ ہم دفاعوں، ڈھالوں اور زرہ بکتروں سے بنے ہوتے ہیں۔۔کہ ہم ایسے شہر ہیں جس کا تعمیراتی نظام دیواروں، پشتوں، مضبوط حصاروں سے بنا ہے۔۔۔ہم بکتر خانے ہیں۔
Lines from Olga Takarckuz' FLIGHTS
Translated by : Nibras Sohail

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2623628181201032

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔