سینیئر شاعر جناب مشکور حسین یاد بھی چلے بسے ۔۔۔۔ ا…


سینیئر شاعر جناب مشکور حسین یاد بھی چلے بسے ۔۔۔۔ اِنّا لِلَّہِ وَ اِنّا اَلَیہِ رَاجِعُون
عباس تابش
…….
زندگی جن کے تصور سے جِلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے

یاد صاحب مرحوم اردو کے نامور انشائیہ نگار, مزاح نگار, نقاد, ادیب, شاعر اور ماہرتعلیم اور سب سے بڑھ کر لاجواب انسان تھے، وہ حصار( مشرقی پنجاب) میں 11 ستمبر 1925 ء کو پیدا ہوئے، لاہور کی ادبی محافل میں ہماری ملاقات یاد صاحب سے ہوتی رہتی بلکہ کئی دفعہ ہم انہیں ان کے گھر سے مشاعرہ کے لئے لینے بھی گئے ، 92 سال کی عمر میں بھی حسِ مزاح لاجواب تھی ۔ ایک بڑا سا کنگھا ہر پل ان کی جیب میں ہوتا جس سے اپنے بال سنوارتے رہتے اور راستے میں خوب باتیں کرتے ، اُن کا حافظہ بھی کمال کا تھا بہت پرانی یادیں وہ ہمیں سنایا کرتے تھے ۔ اکادمی ادبیات کے آفس میں ایک مشاعرہ ہو رہا تھا مشکور صاحب کی صدارت تھی جب اُن کی باری آئی تو لائیٹ چلی گئی اور ایمرجنسی لائیٹ بھی دستیاب نہ تھی ایسے میں فرمانے لگے بھائی ہم نے سب کی سنی اب ہم بھی سنائے بنا نہیں جائیں گے ایک چھوٹی سی ایمرجنسی لائیٹ منگوائی گئی جس کی روشنی میں یاد صاحب نے بمشکل اپنا کلام سنایا۔ یاد صاحب ایک شجرِ سایہ دار تھے جن کی محبتیں کمال کی تھیں ۔ ان کی وفات سے ایک عہد تمام ہوا ۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔ آمین
….